ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنید کے قتل کے معاملے میں مزید4 ملزم گرفتار، 10-15لڑکوں سے کی گئی پوچھ گچھ ،ملزم نے کیا اقبال جرم،عدالت میں پیشی

جنید کے قتل کے معاملے میں مزید4 ملزم گرفتار، 10-15لڑکوں سے کی گئی پوچھ گچھ ،ملزم نے کیا اقبال جرم،عدالت میں پیشی

Thu, 29 Jun 2017 11:48:58    S.O. News Service

نئی دہلی ؍فرید آباد،28جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہریانہ میں فرید آباد ضلع کے بلبھ گڑھ علاقے میں جنید نامی مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے معاملے میں بدھ کومزید چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس معاملے میں 10-15لڑکوں سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔اس سے پہلے کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔معلومات کے مطابق جس لڑکے کی جنید سے آغاز میں بحث ہوئی تھی اسے گرفتار کر لیا گیا ہے،جو چار لوگ پکڑے گئے ہیں، ان میں میں ایک ملزم 50سال کا ہے جو دہلی جل بورڈ میں کام کرتا ہے،باقی تین ملزمان میں سے دو کی عمر 20-20سال ہے اور ایک ملزم کی عمر 30سال ہے۔یہ تمام پلول کے پاس کے رہنے والے ہیں جو نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔پولیس ان کی شناخت پریڈ کرائے گی۔ان تمام کو دفعہ 307، 302، 341، 289کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔یہ ملزم سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں نہیں ہیں،اگرچہ چاقو مارنے والے شخص کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔چاروں ملزم کل (جمعرات کو)عدالت میں پیش کئے جائیں گے۔اس طرح کے معاملے میں ابھی تک کل 5لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں۔اس سے قبل منگل کو معاملے کو لے کر میوات میں مسلمانوں کی مہا پنچایت ہوئی۔اس میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے دہلی میں دو سے چار جولائی تک، یعنی تین دن تک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔اس مہا پنچایت میں میوات، پلول، فرید آباد، گرگرام، بھرت پور اور الور کے 300مسلم نمائندوں نے شرکت کی۔روزہ گرمی اور امس کے درمیان گاندھی پارک میں ہوئی تقریب میں کئی لیڈر، وکیل اور 80دیہات کے سرپنچ شامل ہوئے۔اس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہلی کے جنتر منتر پر 200لوگ باری باری دھرنے پر بیٹھیں گے۔احتجاج کا انتظام کرنے کے لئے 31ارکان کی کمیٹی بنائی ہے۔قابل ذکر ہے کہ دہلی کے صدر بازار سے 22جون کو اپنے دو بھائیوں کے ساتھ خریداری کرکے متھرا جانے والی ٹرین سے واپس آ رہے جنید کو قتل کر دیاگیاتھا۔مبینہ طور پر سیٹ کو لے کر ہوئے تنازعہ کے بعد لوگوں کے ایک گروپ نے ان لوگوں پر فرقہ وارانہ تبصرہ اور تنازعہ بڑھنے پر حملہ کر دیا۔


Share: